Friday , December 2 2022

وفاقی حکومت اور نجی بجلی گھروں کے درمیان ٹیک اینڈ پے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گیا

وفاقی حکومت اور نجی بجلی گھروں کے درمیان ٹیک اینڈ پے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد میں تاخیر سے حکومت کو 90 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے. نجی بجلی گھروں اور حکومت کے درمیان معاہدہ گزشتہ سال اگست میں ہوا تھا معاہدے پرعمل درآمد میں 9 ماہ کی تاخیر ہوئی جس کے باعث 90 ارب روپے کا نقصان ہوا یہ 90 ارب روپے بجلی کے صارفین نے ادا کیئے معاہدے کے مطابق حکومت نجی بجلی گھروں کو کیپیسٹی چارجز کی ادائیگی نہیں کرے گی.

 

بجلی گھروں کو منافع ڈالرز کی بجائے روپوں میں ادا کیا جائے گا نجی بجلی گھر پیداواری ٹیسٹ جون میں کرانے کے پابند ہوں گے۔

 

معاہدے پر عمل درآمد سے حکومت کو ماہانہ 10 ارب روپے کی بچت ہو گی بجلی گھروں سے مجموعی طور 40 سال میں 7000 ارب روپے کی بچت ہو گی. نجی بجلی گھر عدالتوں میں زیر التواءمقدمات واپس لینے کے پابند ہوں گے حکومت نے معاہدے کے ضمن میں 20 نجی بجلی گھروں کو 89 ارب 95 کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی ہے 12 نجی بجلی گھروں کے مقدمات نیب میں ہیں جبکہ 15 نجی بجلی گھر آئندہ چند ہفتوں میں حکومت کے ساتھ معاہدہ کریں گے.

 

واضح رہے کہ گزشتہ روزحکومت نے نے فروری میں 46 آزاد پاور پروجیکٹس (آئی پی پیز) کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت 20 آئی پی پیز کو 89 ارب 20 کروڑ روپے کی پہلی قسط ادا کردی رپورٹ کے مطابق حکومت نے 46 آئی پی پیز کو معاہدے کی بنا پر مجموعی طور پر 403 ارب روپے کی ادائیگی کرنی ہے. دیگر آئی پی پیز کو ادائیگی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے معاہدے کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا تھا وزارت خزانہ نے کہا کہ حکومت نے 20 آئی پی پیز کو 40 فیصد کی پہلی ادائیگی کردی جو پانچ سال کے سکوک اور 10 سال کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) میں شامل ہیں.

 

وزارت کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاور ڈویڑن اور اس کی مختلف تنظیموں کے تعاون سے رقم منتقل کی گئی 28 فروری کو ہونے والے معاہدے کے تحت 20 آئی پی پیز کو مجموعی طور پر 225 ارب روپے کی ادائیگی کرنی ہے 40 فیصد ادائیگی کے بعد بقیہ 60 فیصد آئندہ 6 ماہ کے اندر ادا کیے جائیں گے. آئی پی پیز سے ادائیگی کے طریقہ کار پر اتفاق ہوا تھا جس کے تحت رقم کو دو اقساط میں ادا کرنا تھا معاہدے کے تحت یہ تمام ادائیگیاں 29 مارچ تک مکمل ہوجانی چاہیے تھی لیکن نیب کی مداخلت کی وجہ سے یہ تاخیر کا شکار ہوگئی تھی حبکو کو 23 ارب 20 کروڑ روپے، پی آئی بی اور سکوک کو نقد 7 ارب 70 کروڑ روپے، کوٹ ادو پاور کمپنی کو 39 ارب 60 کروڑ روپے سمیت دیگر ادائیگیاں کی گئیں.

 

روسوچ، فوجی، پاکگین، لالپیر، کے ای ایل اور صبا پاور پر مشتمل 6 آئی پی پیز کو مجموعی طور پر 22 ارب 80 کروڑ روپے ادا کیے گئے قابل تجدید توانائی پلانٹس ایف بی سی ونڈ، ایکٹ ونڈ، آرٹسٹک ونڈ، ہڑپہ شمسی، اے جے سولر، رحیم یار خان مل (شوگر)، جے ڈی ڈبلیو اول اور دوم چینی، حمزہ شوگر، تھر شوگر اور المعیز کو مجموعی طورپر 4 ارب روپے ادا کیے گئے. گزشتہ ماہ کے آغاز میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اعلان تھا کہ وفاقی کابینہ نے آزاد پاور پروجیکٹس کے 40 فیصد واجبات کی ادائیگی کا فیصلہ کیا، جس کے چند گھنٹوں بعد وزیر اعظم ہاﺅس سے جاری ایک بیان میں وضاحت کی گئی تھی کہ کابینہ نے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کمیٹی بنانے کی منظوری دے دی تاہم وزیر اعظم کے دفتر سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں کی منظوری دی ہے جس میں آئی پی پیز کے مسائل اور واجبات کے حل کے لیے کمیٹی کی تشکیل بھی شامل ہے.

About Arslan Sohail

Check Also

پرانے پاکستان سے نئے پاکستان کا سفر

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو فوجی حکمرانی اور جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *